کراچی (شہر)

Karachi - Read in EnglishDisclaimer: As an encyclopedia, pakpedia.pk's articles contains shared information which has collected from different websites, all references are mentioned bellow.
Article Upload Date: Mon 16 Jan 2017
2017-01-16 20:19:26کراچی
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے ۔ماضی میں موجودہ کراچی کی جگہ قدیم ماہی گیروں کی بستی آباد تھی جس کا نام مائی کولاچی تھاجو بعد ازاں بگڑ کر کراچی بن گیا ۔ یہ دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ پاکستان کا دارالحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ یہ ایک معروف صنعتی‘تجارتی‘تعلیمی اورمواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں واقع ہے۔
  • معلومات
  • مقام:

    پاکستان

  • قسم:

    سندھ کا دارالحکومت

  • مقامی زبان کا نام:

    اردو، سندھی

  • کارڈینیٹس:

    24°51'36

  • ویب سائٹ:

    www.kmc.gos.pk

  • سٹی کونسل:

    سٹی کمپلیکس، گلشن اقبال ٹاؤن

  • صوبہ:

    سندھ

  • علاقہ:

    سندھ

  • اونچائی:

    8 میٹر (26 فیٹ)

  • ویب سائٹ:

    www.kmc.gos.pk

  • حکومت کی قسم:

    میٹروپولیٹن سٹی

  • میئر:

    وسیم اختر

  • ڈپٹی میئر:

    ڈاکٹر ارشاد احمد وہرہ

  • زبان
  • سرکاری زبان:

    اردو

  • علاقائی زبان:

    سندھی

  • دوسری بولی جانےوالی زبانیں:

    اردو، سندھی

  • رقبہ
  • کل رقبہ:

    3،527 کلومیٹر (1،362 مربع میٹر)

  • آبادی
  • رینک:

    7 (ورلڈ)

  • کل آبادی:

    24,300,000

  • ٹائم زون
  • ٹائم زون:

    PKT (UTC+05:00)

  • کوڈز
  • ڈائلنگ کوڈ:

    021

  • گاڑیوں کا ریجسٹریشن نمبر:

    3حروف اور 4 ہندسوں پر مشتمل ہے جو Kسے شروع ہوتا ہے

تاریخی پس منظر

Karachi
Karachi
Karachi
Karachi
موجودہ کراچی سے قبل کراچی کو مکران (بلوچستان) کے علاقے ’’کولانچ ‘‘کی ایک بلوچ خاتون جو کولانچ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئی تھی کی نسبت سے مائی کولاچی کہا جاتا تھا ۔ اس وقت یہاں کی تمام تر آبادی بلوچو ں پر مشتمل تھی ۔ مائی کولاچی کےبعد یہ کولاچی اور بگڑ کر انگریزوں کے دور میں کراچی ہو گیا۔1772ء میں مائی کولاچی کو مسقط اور بحرین تک تجارت کرنے کیلئے بندرگاہ منتخب کیا گیا۔ یہی دور تھا جب یہ گاؤں بڑے تجارتی مرکز میں ڈھلنا شروع ہو گیا۔ اس طرح مائی کولاچی میں بلوچوں کے علاوہ ہمسایہ علاقوں کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہونا شروع ہوگئے ۔ بعد ازاں بڑھتے ہوئے محل وقوع کے تحت اس کی حفاظت کیلئے شہر کی گرد فصیل تعمیر کی گئی ۔ مسقط سے توپیں درآمد کرکے شہر کی فصیل پر نصب کی گئیں۔ فصیل میں 2 دروازے بنائے گئے تھے (بلوچی میں در دروازے کو کہتے ہیں) ۔ایک در (دروازہ) کا رخ سمندر کی طرف تھا ۔ اسی لیے اس کو بلوچی میں کھارادر (سندھی میں کھارودر) کہا جاتا تھا جبکہ دوسرے در (دروازے) کا رخ لیاری ندی کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں میٹھادر (سندھی میں مٹھودر) کہا جانے لگا۔[1] 24 September - Archived

یونانی تاریخ

قدیم یونانی کراچی کے موجودہ علاقہ کو مختلف ناموں سے پکارتے جیسے ’’کروکولا‘‘ اسی علاقے ’’ مورون ٹوبارہ ( کراچی بندرگاہ کے قریب منوڑا کا تاریخی مقام ) سے سکندر اعظم وادی سندھ میں اپنی مہم کے بعداپنی سپاہ کی واپس بابل روانگی کی تیاری کیلئے خیمہ زن ہوا ۔ کراچی کی بندرگاہ کے جزیرہ منوڑہ جہاں سے سکندر کی فوج کا سپہ سالار نییرچس(نیارخوس) واپس اپنے وطن روانہ ہوا اور بربیریکون(بارباریکون)جوہندوستانی یونانیوں کی مملکت کی بندرگاہ تھی ۔ علاوہ ازیں عرب اس علاقہ کو بندرگاہ دیبل کے نام سے جانتے تھےجہاں سے محمد بن قاسم نے 712ء میں اپنی فتوحات کا آغاز کیاتھا ۔ برطانوی تاریخ دان ایلیٹ کے مطابق موجودہ کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ، دیبل میں شامل تھے۔

انگریز سامراج کا عہد

1795ء تک کراچی (کولاچی) خان قلات کی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ اس سال سندھ کے حکمرانوں اور خان قلات کے درمیان میں جنگ شروع ہوگئی اور کراچی پر سندھ کے حکمرانوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس دوران شہر کی بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں اور زیادہ بڑے ملک کی تجارت میں اہم حصہ دار بن جانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا۔ معاشی ترقی نے ایک جانب تو بڑی تعداد میں لوگوں کو کراچی کی جانب مائل کیا تو دوسری جانب توجہ اس کی جانب مبذول ہوگئی ۔ انگریزوں نے 3 فروری 1839ء کو کراچی شہر پر حملہ کیا اور اس پر قابض ہوگئے ۔ تین سال کے بعد انگریزوں نے شہر کو برطانوی ہندوستان کے ساتھ ملحق کردیا اور اسے ایک ضلع کی حیثیت دے دی۔ انگریز سامراج نے کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو دریائے سندھ کی وادی کا اہم تجارتی مرکز بنانے کیلئے شہر کی ترقی پر توجہ مرکوز کی۔ برطانوی راج میں کراچی کی آبادی اور بندرگاہ دونوں تیزی سے اضافہ ہوا۔1876ء میں کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح پیدا ہوئے۔ اس وقت تک کراچی ایک ترقی یافتہ اور معاشی خوشحالی والا شہر بن چکا تھا ۔ اس کی تمام تر معیشت کا کا انحصار شہر کے ریلوے اسٹیشن اور بندرگاہ پر تھا۔ اس دور میں تعمیر کی گئیں اکثر عمارتوں کا طرز تعمیر قدیمی برطانوی نوآبادیاتی طرز پرتھا جو بر صغیر کے اکثر شہروں سے مختلف تھا۔ ان میں سے اکثر عمارتیں اب بھی موجود ہیں اور معروف سیاحتی مراکز ہیں۔ اس دور میں کراچی ادبی، تعلیمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا گہوارہ تھا ۔

جغرافیہ

کراچی شہر جنوبی پاکستان میں بحیرہ عرب کے عین شمال میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ ہے جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ شہر کے درمیان میں سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیںجوملیر ندی اور لیاری ندی ہیںجوسیلاب کے پانی کے بہائو کیلئے ہیں اس کے ساتھ شہر سے کئی دیگر چھوٹی بڑی ندیاں)( اور برساتی نالے)بھی گزرتے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ اس کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ چونکہ بندرگاہ کو ہر طرف سے زمین نے گھیر رکھا ہے اس لئے اس کو ایک بہت خوبصورت قدرتی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ضلع کراچی کی کل آبادی ایک کروڑ 80 لاکھ ہے۔رقبے کے لحاظ سے یہ صوبہ سندھ کا سب سے چھوٹا مگرآبادی کے لحاظ سے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد ضلع ہے۔ ضلع میں فی مربع کلومیٹر 5 ہزار سے بھی زائد لوگ بستے ہیں۔[2] Independence - history

موسم اور آب و ہوا

Karachi
Karachi
ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم انتہائی معتدل ہے۔ یہاںعمومی طور پر بارشیں کم ہوتی ہیں۔سال میں اوسطا 250 ملی میٹرسالانہ ریکارڈ کی جاتی ہے جس کا زیادہ تر حصہ مون سون پر مشتمل ہوتا ہے۔ کراچی میں موسم گرما اپریل سے اگست تک باقی رہتا ہے اور اس دوران ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نومبر سے فروری یہاں موسم سرما ہوتا ہے۔ دسمبر اور جنوری کراچی میں سب سے زیادہ آرام دہ موسم کے مہینے شمار ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے شہر میں ان ہی دنوں میں سب سے زیادہ تقاریب اورسیر و سیاحت کی جاتی ہے۔[3] stations -   DailyTimes  

شہری حکومت

Karachi
Karachi
کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں کیا گیا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر‘ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی میں تبدیل کردیا گیا۔ 2000ء عیسوی میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع‘ضلع کراچی جنوبی‘ضلع کراچی شرقی‘ضلع کراچی غربی‘ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں شامل کردیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ‘ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن‘یونین کونسل ایڈمنسٹریشن شامل ہیں ۔ضلع کراچی 18 ٹاؤن ( قصبہ جات ) میں تقسیم ہےجبکہ 6 چھائونی کے علاقے بھی اس کے علاوہ ہیں۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی‘نکاسی آب‘کوڑے کی صفائی‘سڑکوں کی مرمت‘باغات‘ٹریفک سگنل اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔ بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے پاس ہیں۔

میونسپل کارپوریشن

یہ ٹاؤنز(بلدیات) مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم کئے گئے ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اساس ہیں۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یونین کونسل ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبوں اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔[4] Kingsley - Haynes 2012

سابقہ ناظمین

2005ء میں بلدیاتی انتخابات میں سید مصطفیٰ کمال نے کامیابی حاصل کی اور نعمت اللہ خان کی جگہ کراچی کے ناظم مقرر ہوئے جبکہ نسرین جلیل شہر کی نائب ناظمہ منتخب ہوئیں۔ سید مصطفیٰ کمال ناظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل صوبہ سندھ کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی تھے۔ ان سے قبل کراچی کے ناظم نعمت اللہ خان 2004ء اور 2005ء کیلئے ایشیاء کے بہترین ناظمین میں سے ایک قرار دئیے گئے تھے۔ مصطفیٰ کمال نے نعمت اللہ خان کا شروع کیا ہوا سفر جاری رکھتے ہوئے شہر میں ترقی میں کافی تیزی سے کام آگے بڑھایا۔

بندر گاہیں

Karachi
Karachi
Karachi
Karachi
کراچی پاکستان کا صنعتی و تجارتی مرکز ہے جہاں ملک کی تین میں سے دو بندرگاہیں کراچی بندرگاہ اور بندرگاہ محمد بن قاسم واقع ہیں۔کراچی بندرگاہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں سے سالانہ 2.5 کروڑ ٹن سامان کی تجارت ہوتی ہے جو پاکستان کی کل تجارت کا تقریباً 60فیصد بنتا ہے۔یہ بندرگاہ قدیم کراچی شہر کے قریب کیماڑی اور صدر کے درمیان واقع ہے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث یہ بندرگاہ اہم آبی گزرگاہوں مثلاً آبنائے ہرمز کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ بندرگاہ کا انتظام و انتصرام ایک وفاقی ادارے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سپرد ہے۔ یہ ادارہ 19 ویں صدی عیسوی میں برطانوی دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔

جامعہ کراچی

کراچی میں قائم پاکستان کی ایک بڑی جامعہ ہے۔1951ء میں اس عظیم جامعہ کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ جامعہ کراچی میں موجودہ وقت 52 شعبہ جات، 17 تحقیقی ادارے اور 97 الحاق شدہ کالج شب و روز فروغ علم کیلئے کوشاں ہیں۔حسن رضا اعوان موجودہ شیخ الجامعہ کے فرائض انجام سے رہے ہیں۔

امن و امان 

پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے منی پاکستان کوچھوٹاپاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی لسانی فسادات، تشدد اور دہشتگردی کا شکار رہا۔ بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کیلئے پاک فوج کو امن و امان بحال کرنے کیلئے مداخلت کرنی پڑی۔ اکیسویں صدی میں تیز ترقومی معاشی ترقی کے ساتھ کراچی کے حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ موجودہ دور میں کراچی کی امن عامہ کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے اور کراچی میں وقت کے ساتھ مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

Theatre & Cinema

Karachi is home to some of Pakistan's important cultural institutions. The National Academy of Performing Arts,[5] Performing Arts - Retrieved located in the former Hindu Gymkhana, offers diploma courses in performing arts that includes classical music and contemporary theatre. Karachi is home to groups such as Thespianz Theater, a professional youth-based, non-profit performing arts group, which works on theatre and arts activities in Pakistan.

Tourist Attractions

Karachi is a tourist destination for domestic and international tourists. Tourist attractions near Karachi city include:Museums: Museums located in Karachi include the National Museum of Pakistan, Pakistan Air Force Museum, and Pakistan Maritime Museum.Parks: Parks located in Karachi include Bagh Ibne Qasim, Boat Basin Park, Mazar-e-Quaid, Karachi Zoo, Hill Park, Safari Park, Bagh-e-Jinnah, PAF Museum Park and Maritime Museum Park.[6] www - karachi.com

Others

Architecture

Karachi has a collection of buildings and structures of varied architectural styles. The downtown districts of Saddar and Clifton contain early 20th-century architecture, ranging in style from the neo-classical KPT building to the Sindh High Court Building. Karachi acquired its first neo-Gothic or Indo-Gothic buildings when Frere Hall, Empress Market and St. Patrick's Cathedral were completed. The Mock Tudor architectural style was introduced in the Karachi Gymkhana and the Boat Club. Neo-Renaissance architecture was popular in the 19th century and was the architectural style for St. Joseph's Convent (1870) and the Sind Club (1883).The classical style made a comeback in the late 19th century, as seen in Lady Dufferin Hospital (1898) and the Cantt. Railway Station. While Italianate buildings remained popular, an eclectic blend termed Indo-Saracenic or Anglo-Mughal began to emerge in some locations.The local mercantile community began acquiring impressive structures. Zaibunnisa Street in the Saddar area (known as Elphinstone Street in British days) is an example where the mercantile groups adopted the Italianate and Indo-Saracenic style to demonstrate their familiarity with Western culture and their own. The Hindu Gymkhana (1925) and Mohatta Palace are examples of Mughal revival buildings.[7] Public - Historickarachi The Sindh Wildlife Conservation Building, located in Saddar, served as a Freemasonic Lodge until it was taken over by the government. There are talks of it being taken away from this custody and being renovated and the Lodge being preserved with its original woodwork and ornate wooden staircase.

Education

Major universities Include:
  • University of Karachi
  • National University of Computer and Emerging Sciences FAST-NU
  • Institute of Business Administration, Karachi
  • National University of Sciences and Technology, Karachi
  • Aga Khan University
  • Habib University
  • Jinnah Medical and Dental College
  • Jinnah Sindh Medical University
  • Indus Valley School of Art & Architecture
  • Pakistan Air Force  Karachi Institute of Economics and Technology
  • United Medical and Dental College

Sports

When it comes to sports Karachi has a distinction, because some sources cite that it was in 1877 at Karachi in (British) India, where the first attempt was made to form a set of rules of badminto and likely place is said to Frere Hall.Cricket in Pakistan has a history of even before the creation of the country in 1947. The first ever international cricket match in Karachi was held on 22 November 1935 between Sindh and Australian cricket teams. The match was seen by 5,000 Karachiites.[8] Sindh - The Sydney The inaugural first-class match at the National Stadium was played between Pakistan and India on 26 February 1955 and since then Pakistani national cricket team has won 20 of the 41 Test matches played at the National Stadium. The first One Day International at the National Stadium was against the West Indies on 21 November 1980, with the match going to the last ball.The national team has been less successful in such limited-overs matches at the ground, including a five-year stint between 1996 and 2001, when they failed to win any matches. The city has been host to a number of domestic cricket teams including Karachi, Karachi Blues,  Karachi Greens, and Karachi Whites. The National Stadium hosted two group matches (Pakistan v. South Africa on 29 February and Pakistan v. England on 3 March), and a quarter-final match (South Africa v. West Indies on 11 March) during the 1996 Cricket World Cup.

Social Issues

Sometimes stated to be among the world's most dangerous cities,the extent of violent crime in Karachi is not as significant in magnitude as compared to other cities.  According to the Numbeo Crime Index 2014, Karachi was the 6th most dangerous city in the world. By the middle of 2016, Karachi's rank had dropped to 31 following the launch of anti-crime operations.The city's large population results in high numbers of homicides with a moderate homicide rate. Karachi's homicide rates are lower than many Latin American cities, and in 2015 was 12.5 per 100,000 lower than the homicide rate of several American cities such as New Orleans and St. Louis.The homicide rates in some Latin American cities such as Caracas, Venezuela and Acapulco, Mexico are in excess of 100 per 100,000 residents, many times greater than Karachi's homicide rate. Karachi had become widely known for its high rates of violent crime, but rates sharply decreased following a controversial crackdown operation against criminals, the MQM party, and Islamist militants initiated in 2013 by the Pakistan Rangers. In 2015, 1,040 Karachiites were killed in either acts of terror or crime  an almost 50% decrease from the 2,023 deaths in 2014, and an almost 70% decrease from the 3,251 deaths recorded in 2013 the highest ever recorded number in Karachi history. Despite a sharp decrease in violent crime, street crime remains high.With 650 homicides in 2015, Karachi's homicide rate decreased by 75% compared to 2013. Extortion crimes decreased by 80%, while kidnappings decreased by 90% during the same period. As a result of the Karachi's improved security environment, real-estate prices in Karachi rose sharply in 2015. In addition to increased land values, upmarket restaurants and caf©s were described by Reuters as "overflowing.

اس مضمون کی شرح بندی کیجیئے نہیں، شکریہ

سیاق و سباق اور معیارِ لکھاوٹ :
عنوانات اور تصویریں :
حوالہ جات اور معیاری مواد :

مجموعی طور پر شرح بندی:

دست برداری:

پاک پیڈیا پاکستان کا سب سے بڑا آن لائن انسائیکلوپیڈیا ہے، معلومات کا ذخیرہ مختلف لوگوں اور ویب سائٹس سے لیا گیا ہے ، اگر آپ کسی بھی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کے تعاون کے شکرگزار ہوں گے ۔